الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ باب: فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9316
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے اولین مصداق فقیر مہاجرین ہیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ
ٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخْلَاصِھِمْ۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنییہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کیمحبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ
ٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخْلَاصِھِمْ۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنییہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کیمحبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔