الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْفَقْرِ مَعَ الصَّلَاحِ باب: راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَأَحْبَبْتُمْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً قَالَ فَضَالَةُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ سے لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔