حدیث نمبر: 9305
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَأَحْبَبْتُمْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً قَالَ فَضَالَةُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ سے لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! اگر کوئی آدمی فقر و فاقہ کے ایام صبر کے ساتھ گزار دے گا تو موت کے بعد والی گھاٹیاں آسانی سے طے کر لے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2368 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24435»