الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْفَقْرِ مَعَ الصَّلَاحِ باب: راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ نُقَادَةَ الْأَسَدِيَّ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً لَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ رَدَّهُ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ سِوَاهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ فَلَمَّا أَبْصَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ بِهَا نُقَادَةُ يَقُودُهَا قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ أَرْسَلَ بِهَا قَالَ نُقَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا قَالَ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدَهُ يَعْنِي الْمَانِعَ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ يَعْنِي صَاحِبَ النَّاقَةِ الَّذِي أَرْسَلَ بِهَا۔ سیدنا نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ نقادہ رضی اللہ عنہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔