حدیث نمبر: 9298
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔

وضاحت:
فوائد: … اس امت کا سب سے بہترین گروہ صحابۂ کرام کی جماعت ہے، لیکن انھوں نے دنیوی وسائل کے اعتبار سے کیسی زندگی گزاری، چند ایک مثالیں اس باب میں بھی مذکور ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21790»