الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9296
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ قَالَ ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیس یا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔