الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9293
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِيظِ قَالَ مُوسَى يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسَّلْتَ إِذَا خُلِطَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ موسیٰ کے باپ علی بن رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اسکندریہ میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، لوگوں نے اپنی خوشحالی کا ذکر کیا، اس موقع پر ایک صحابی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں فوت ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال نے جَو اور سَلْت کی مکس روٹی نہیں کھائی۔
وضاحت:
فوائد: … سَلْت: یہ جَو کی ہی ایک قسم ہے، گندم کے مشابہ ہوتی ہے اور اس پر چھلکا نہیں ہوتا۔ الْخُبْز الغَلِیْث: وہ روٹی جس میں دو قسم کے آٹے ڈالے جائیں، جیسے گندم اور جو، راوی نے جو تفسیر بیان کی ہے، اس میں جَو کی دو قسموں کا بیان ہے۔