الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9292
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ (وَفِي لَفْظٍ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ) لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى قَرَحَتْ أَشْدَاقُنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا صرف اور صرف لوبیے جیسی ترکاری کے پتے تھے، اس سے ہمارے گوشۂ دہن زخمی ہونے لگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … جن صحابہ نے اسلام کے ابتدائی کٹھن حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو ترجیح دی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فقرو فاقہ کو پسند کیا۔