حدیث نمبر: 9290
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَبَّابٍ أَيْضًا قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً إِذَا غَطَّوْا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَطُّوا رَأْسَهُ وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا قَالَ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ ثِمَارُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … پھل پکنے سے مراد فتوحات اور دنیوی مال و دولت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3853 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21392»