الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَبَّابٍ أَيْضًا قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً إِذَا غَطَّوْا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَطُّوا رَأْسَهُ وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا قَالَ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ ثِمَارُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔