حدیث نمبر: 9289
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَوْ لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ الْأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ فَلَمَّا رَآهُ بَكَى وَقَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کو جسم کے سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق جو تکلیف مجھے ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے میں موت کی تمنا کرتا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا اور اب تو میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں، پھر ان کا کفن لایا گیا اور انھوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور کہا: لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے کفن نہیں تھا، ما سوائے سفید و سیاہ رنگ کی ایک چادر کے، جب وہ ان کے سر پر رکھی جاتی تو پاؤں سے سکڑ جاتی اور جب پاؤں پر رکھی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی، پھر اس کو ان کے سر پر ڈالا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی گئی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني: 3674 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21387»