الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّكَ تُدْرِكَ أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ فِي جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوں کے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔