حدیث نمبر: 9287
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّكَ تُدْرِكَ أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ فِي جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوں کے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا آخری جملہ وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔) شواہد کی بنا پر حسن ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9287
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، شقيق بن سلمة لم يسمع ھذا الحديث من ابي ھاشم، بينھما سمرة، وھو مجھول، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 219 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15749»