الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9285
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّمَا كَانَ طَعَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَ كُمْ هَذِهِ وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ النِّمَارَ يَعْنِي بُرُودَ الْأَعْرَابِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹی چھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔