الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ باب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9279
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلاَمِ، وَکَانَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنِعَ۔)) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی گزران برابر برابر تھی، لیکن اس نے اس پر قناعت کی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)