حدیث نمبر: 9277
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔

وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی بڑی نعمتیں عطا کی ہیں، اگرچہ فقرو فاقہ کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی معقول ہے، ہر ایک کے لیے شریعت ِ مطہرہ نے قواعد مقرر کر دیئے ہیں تاکہ نعمتوں والوں کو کسی نعمت سے اور فاقہ مستوں کو فقیری کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1799، وابويعلي: 1790، وابن حبان: 3411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14692»