حدیث نمبر: 9276
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ ((أَطْعِمْنَا بُسْرًا)) فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ ((لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) قَالَ فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ((نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حِجْرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حشرج بن نباتة الاشجعي مختلف فيه، وثقه غير واحد، وقال ابو حاتم: صالح يكتب حديثه ولا يحتج به، وقال النسائي في رواية: ليس بالقوي، وفي اخري: ليس به بأس، وانظر الحديث الآتي، فانه يشھد لبعضه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21049»