الفتح الربانی
كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق— کتاب زہد، دنیا سے معمولی مقدار لینے اور بقدر ضرورت رزق پر راضی ہوجانے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا و نَعِيمِها باب: دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9273
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِغَرِيمٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔