حدیث نمبر: 9266
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ)) قَالَ وَاللَّهِ مَا أَبْكِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعِيثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ)) قَالَ عُمَرُ بَلَى قَالَ ((فَإِنَّهُ كَذَاكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگر دنیا کوئی بہترین چیز ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ مستحق سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، چونکہ آپ دائمی اور ابدی نعمتوں کے خواہشمند تھے، اس لیے دنیا کی عارضی نعمتوں سے دور رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في الادب : 1163، وابويعلي: 2782، وابن حبان: 6362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12444»