حدیث نمبر: 9264
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ قَالَ فَذَهَبَ وَلَمْ يَسْأَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کی کوئی ضرورت تھی، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اوریہ فرما رہے تھے: جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا اور جس نے ہم سے سوال کیا اور ہمارے پاس کچھ ہوا تو ہم اس کو دے دیں گے۔ یہ حدیث سن کر وہ آدمی چلا گیا اور کوئی سوال نہ کیا۔

وضاحت:
فوائد: … عبادات کو مرتّب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان کی بسیار کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ خود کمائی کر کے اپنا نظام چلانے کی کوشش کرے اور کسی سے سوال نہ کرے، اگر آمدنی کم ہو تو قناعت اور شکر کے ذریعے اطمینان حاصل کرے اور حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، لیکن شرعی حدود کو پورا کر کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 5/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11002»