الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْقِنَاعَةِ وَالْعِفَّةِ باب: قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ قَالَ فَذَهَبَ وَلَمْ يَسْأَلْ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کی کوئی ضرورت تھی، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اوریہ فرما رہے تھے: جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا اور جس نے ہم سے سوال کیا اور ہمارے پاس کچھ ہوا تو ہم اس کو دے دیں گے۔ یہ حدیث سن کر وہ آدمی چلا گیا اور کوئی سوال نہ کیا۔