حدیث نمبر: 9263
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی زندگی بقدر ضرورت روزی پر مشتمل ہو اور وہ قناعت کرے۔

وضاحت:
فوائد: … طُوْبٰی کے معانی جنت اور جنت میں ایک درخت کے بھی کیے گئے ہیں۔
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، یہ نعمت کئی نیکیاں سرانجام دینے کا سبب بنتی ہے، بہرحال اکثر و بیشتر لوگوں کی حالت کو سامنے رکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ اگر بقدر سد رمق روزی اور اس پر قناعت کرنے کی توفیق مل جائے تو اخروی انجام کے لیے وہ بہت بہتر ہے۔
عقلمند مسلمان کو چاہیے کہ وہ فقر و فاقہ کی سختیوں سے بچنے کے لیے اپنے لیے معتدل اور مناسب سا معیارِ زندگی منتخب کر لے اور زائد از ضرورت مال و دولت کے پیچھے مت پڑے، جس کا انجام خوشحالی، آسودہ حالی اور فارغ البالی ہوتا ہے اور کم لوگ ہی ایسی حالت میں ہیں کہ وہ مال و دولت کے جمع کرنے کے انجام بد سے محفوظ رہ سکے ہوں۔ بالخصوص اس پُر فتن اور ذرائع آمدن کی کثرت والے دور میں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس سے پناہ میں رکھے اور گرز بھر روزی عطا فرمائے۔
مگر افسوس ہے کہ آج کا مسلمان مال و دولت کے انبار کو ہی اپنے کامیابی کا راز سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں قناعت اور شکر و صبر جیسی صفات مفقود ہو چکی ہیں، عام مزدور بھی اپنے رزقِ حلال پر قانع و شاکر نظر آنے کے بجائے راتوں رات کروڑ پتی بننے کے خواب میں مبتلا ہو کر بے چین نظر آتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2349 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24442»