حدیث نمبر: 9262
عَنْ نَافِعٍ قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ أَوْ إِلَى مِصْرَ قَالَ فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَتْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ رَأْسَ مَالٍ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ امام نافع کہتے ہیں: میں تجارت کے لیے شام یا مصر میں جاتا تھا، ایک دفعہ میں عراق کے لیے تیار ہوا اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! اس دفعہ میں عراق کے لیے تیار ہوا ہوں، انھوں نے کہا: تیری پہلی تجارت کو کیا ہوا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب ایک چیز کسی کے رزق کا سبب بنا ہوا ہو تو وہ اس کو نہ چھوڑے، یہاں تک کہ وہ چیز خود تبدیل ہو جائے۔ بہرحال میں عراق چلا گیا اور واپس آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! اللہ کی قسم! (نفع تو کجا) میں تو اصل مال بھی واپس لے کر نہ آ سکا، سیدہ نے اس کو دوبارہ وہی حدیث بیان کی،یا کہا: حدیث تو وہی ہے، جو میں نے تجھے بیان کر دی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر سمجھ دار لوگ یہی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی منافع بخش کاروباری سلسلہ چل رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو برقرار رکھے، کئی لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ زیادہ مال کے حرص میں اپنے کام کو تبدیل کرتے ہیں تو برکت ختم ہو جاتی ہے، ہاں اگر کوئی معقول وجہ ہو تو ایسا کر لینے میں حرج بھی کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9262
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، والد الضحاك: ھو مخلد بن الضحاك ضعيف لايتابع علي حديثه، والزبير بن عبيد في عداد المجاھيل، أخرجه ابن ماجه: 2148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26620»