حدیث نمبر: 9246
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِشِسْعٍ فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی میں چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، پس ایک آدمی تسمہ لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے میں ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس چیز کو جانتا ہوتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھایا ہے تو تواس چیز کو کم نہ سمجھتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوار کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لَمْ یَعلُ کے الفاظ اکثر نسخوں میں اسی طرح مروی ہیں، البتہ ایک نسخے میں لَمْ یَغلُ کے الفاظ ہیں، علامہ سندھی نے کہا: میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ یہ الفاظ حاضر کے صیغے کے ساتھ ہیں، جن کے معانی لَمْ تُقِلَّ (کم سمجھنے) کے ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے عمل کو عظیم قرار دے رہے ہیں، بعض نسخوں میں لَمْ تُعْلِ اور بعض میں لَمْ تُغْلِ کے الفاظ ہیں، لیکن ان الفاظ کی کوئی قریبی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9246
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني ، وھو واھي الحديث أخرجه الطبراني في الكبير : 7865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22643»