حدیث نمبر: 9245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَنَلْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ دے، اگر بدلے کی قدرت نہ ہو تو اس کا ذکر کر دے، پس جس نے اس کا ذکر کر دیا، اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے ایسی نعمت کا اظہار کیا، جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، جیسے: آپ کی بہت بہت مہربانی، آپ نے شفقت کی ہے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور اس کے لیے دعا کرے، جیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صُنِعَ إِلَیْہِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِہِ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِی الثَّنَائِ۔)) … جس کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے نیکی کرنے والے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا فرمائے، اس نے پوری تعریف کی۔ (ترمذی: ۱۹۵۸) معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کہنے کے لیے بہترین الفاظ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا ہیں۔
جھوٹ کے دو کپڑے پہننے سے مراد یہ ہے کہ گویا جھوٹ نے اس بندے کے سارے بدن کو ڈھانپ لیا ہے، وہ اپنے حق میں ایسی چیز کا اظہار کر رہا ہے، جو اس کی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 2484، وابن راھويه: 774 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25100»