حدیث نمبر: 9244
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ التَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ فِي سُورَةِ النُّورِ {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ} [سورة النور: ٥٤]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لکڑیوں پر یا اس منبر پر فرمایا تھا کہ جس نے تھوڑی چیز کا شکر ادا نہ کیا، وہ کثیر مقدار والی چیز کا بھی شکریہ ادا نہیں کرے گا اور جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بیان کرنا بھی شکر ہے اور بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ اور جماعت رحمت ہے اور افتراق و انتشار عذاب ہے۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے لشکر کو لازم پکڑو، ایک آدمی نے کہا: بڑا لشکر کون سا ہے؟ سیدنا ابو امامہ نے کہا: سورۂ نور کی یہ آیت ہے: پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ (سورۂ نور: ۵۴)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قوله: من لم يشكر الناس لم يشكر الله صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، فيه ابو عبد الرحمن لم يعرف، أخرجه البيھقي في الشعب : 9119، والبزار: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18641»