حدیث نمبر: 9238
عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ قَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ معصوم ہستی کا شکر ادا کرنے کا انداز ہے کہ کثرت ِ عبادت کی وجہ سے جن کے پاؤں میں ورم آ جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، وہ اس لائق ہے کہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4836، ومسلم: 2819 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18384»