الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي شُكْرِ الْمُنْعِم وَالْمُكَافَاةِ عَلَى الْمَعْرُوفِ باب: منعِم کا شکر ادا کرنے اور نیکی کا بدلہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 9238
عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ قَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ معصوم ہستی کا شکر ادا کرنے کا انداز ہے کہ کثرت ِ عبادت کی وجہ سے جن کے پاؤں میں ورم آ جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، وہ اس لائق ہے کہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔