حدیث نمبر: 9236
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی سے کوئی بات سنی اور وہ آدمی یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ بات اس کے حوالے سے ذکر کی جائے تو وہ بات امانت ہو گی، اگرچہ بات کرنے والا اس کو راز رکھنے کی ہدایت نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بندے کو خود بخود سمجھ جانا چاہیے کہ کون سی بات یا چیز امانت ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ یہ تاکید کی جائے کہ فلاں بات امانت ہے، اس کا خیال رکھنا، درج ذیل مثال پر غور کریں: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِیْثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ أَمانَۃٌ۔)) … جب کوئی آدمی بات کرے، پھر ادھر ادھر دیکھنے لگے (کہ کوئی سن یا دیکھ تو نہیں رہا) تو اس کی بات امانت ہو گی۔ (ابوداود: ۲/۲۹۷، ترمذي: ۱/۳۵۵)
امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن ہمارے ہاں تو تاکید کے باوجودمخصوص مجالس کو امانت نہیں سمجھاجاتا اور بات کو بتنگڑ بنا کر نشر کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9236
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن الوليد الوصافي، وعبدُ الله بن عبيد بن عمير لم يذكروا له سماعا من ابي الدرداء ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28059»