الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصِّدْقِ وَالأَمَانَةِ باب: سچائی اور امانت کی ترغیب کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ قَالَ الصِّدْقُ وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ وَإِذَا بَرَّ آمَنَ وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ النَّارِ قَالَ الْكَذِبُ إِذَا كَذَبَ فَجَرَ وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ يَعْنِي النَّارَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جنت کے اعمال کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی، جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے، جب نیکی کرتا ہے تو ایمان دار بن جاتا ہے اور جب ایماندار بنتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آگ کے اعمال کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو برائی کرتا ہے، جب برائی کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو آگ میں داخل ہو جاتا ہے۔