حدیث نمبر: 9220
عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کسی وجہ سے ایک آدمی کو سزا دی، لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو منع کر دیا، لوگوں نے کہا: تم نے امیر کو غصہ دلا دیا ہے، پس وہ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کو غصہ دلانا میرا ارادہ نہیں تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت والے دن سب سے سخت عذاب اس کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب میں مبتلا کرتاہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9220
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، خالد بن حكيم مختلف فيه صحبته ، ثم انه اختلف فيه علي عمرو بن دينار، أخرجه الطيالسي: 1157، والحميدي: 562، والطبراني في الكبير : 3824 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16943»