الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرَّحْمَةِ بِخَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى وَثَوَاب فَاعِلِهَا وَوَعِيدِ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ باب: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب¤اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 9220
عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کسی وجہ سے ایک آدمی کو سزا دی، لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو منع کر دیا، لوگوں نے کہا: تم نے امیر کو غصہ دلا دیا ہے، پس وہ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کو غصہ دلانا میرا ارادہ نہیں تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت والے دن سب سے سخت عذاب اس کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب میں مبتلا کرتاہے۔