حدیث نمبر: 9218
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَقَالَ لَهُ لَا تُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں، میں نے تو کسی کا بوسہ نہیں لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7121»