الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي طَلَبِ الْغُسْلِ مِنَ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ باب: مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 921
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قیس بن عاصم ؓ سے مروی ہے کہ جب وہ عہد ِ نبوی میں مسلمان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اسلام قبول کرنے والا غسل کرے اور اہل اسلام اس سے اس چیز کا مطالبہ کریں۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے والے کے لیے غسل کرنا ضروری ہے۔