حدیث نمبر: 9204
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ (وَفِي رِوَايَةٍ الضَّالَّةُ مِنَ الْإِبِلِ) تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ أَجْرٌ لِلَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنا شروع کر دیا (اور اتنے سوالات کیے کہ) مزید کوئی سوال یاد ہی نہیں آ رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اور یادکرو۔ بہرحال میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سوالات کیے تھے، ان میں ایک سوال یہ تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ میرے حوضوں پر آ جاتا ہے، جبکہ میں نے ان کو اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو کیا اس کو پانی پلا دینے میں میرے لیے اجر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہر تر جگر کو پلانے میں اللہ تعالیٰ کے لیے اجر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ہر جانور کے ساتھ احسان کرنا چاہیے،یہاں تک کہ شریعت میں جن جانوروں کو قتل یا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کو آرام دہ انداز میں قتل اور ذبح کرنا چاہیے، نہ کہ ظالمانہ انداز میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9204
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3686 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17730»