حدیث نمبر: 9201
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا غَيْرِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمَ صَعْبًا لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي بِهِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ صدقہ کے اونٹوں کی طرف جنگل میں گئے اور میرے علاوہ اپنی تمام بیویوں کو اونٹ دیے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے علاوہ سب کو ایک ایک اونٹ دیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سخت اونٹ دیا، اس پر ابھی تک سوار نہیں ہوا گیا تھا، پس میں اس کو مارنے لگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی جدا ہوتی ہے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2478، 4808 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25319»