الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ)) قَالَ: وَمَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ)سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“