حدیث نمبر: 92
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ)) قَالَ: وَمَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“

وضاحت:
فوائد: … وائے مصیبت! اس حدیث ِ مبارک افضل ایمان کی شکلیں بیان کی گئی ہیں، لیکن ہمارا معیار کیا ہے، ہماری محبتیں اور دشمنیاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے نہیں ہیں، کوئی مال و دولت کو دیکھتا ہے، کوئی حسن و جمال کو ترجیح دیتا ہے، کوئی ذات پات کا پجاری بن چکا ہے، کوئی عہدہ و منصب کا خیال رکھتا ہے۔ رہا مسئلہ زبان کا، تو لوگ اس کا استعمال تو بکثرت کرتے ہیں، لیکن اول فول، فضول گوئی اور گپ شب، اسی طرح ہمیں مسلمان بھائیوں کی خوشیاں اچھی نہیں لگتیں، بلکہ ہم ان کی پریشانیوں پر خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 425 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22483»