الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ بِالْحَيَوَانِ باب: حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ فَقَالَ لَهُمْ ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔