حدیث نمبر: 9197
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ فَقَالَ لَهُمْ ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بنی آدم پر احسان ہے کہ اس نے جانوروں کو قوت ِ گویائی عطا نہیں کی، وگرنہ اس سے لوگوں کو کافی ساری پریشانی ہو سکتی تھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان من مانی پر اتر آئے اور بے زبان مخلوق کا کوئی لحاظ نہ کرے، اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کی خاطر جانوروں میں بھوک، پیاس اور مشقت کا اظہار کرنے کے لیے ان کو بولنے کی قوت نہیں دی تو انسان کو یہ وصیت کر دی کہ وہ نہ صرف اس چیز کا احساس کرے، بلکہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا خوف ِ خدا کا تقاضاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9197
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن الي قوله: ولا تتخذوھا كراسي۔ وھذا اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 432 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15714»