حدیث نمبر: 9196
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جس نے میری امت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا، تو اس پر نرمی کر اور جس نے میری امت پر سختی کی، تو بھی اس پر سختی کر۔

وضاحت:
فوائد: … نرمی ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی محبوب ہو جاتا ہے، نرمی جیسی صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، نرمی حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ نرمی سے محروم آدمی لوگوں کی نگاہوں میں بھی معیوب چیز کی طرح حقیر ہو جاتا ہے اور عند اللہ بھی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9196
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24841»