الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ باب: نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً ثُمَّ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ۔ مقدام بن شریح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، ایک دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تومیری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی، جس پر ابھی تک سواری نہیں کی گئی تھی، بھیجی اور فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔