حدیث نمبر: 9194
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً ثُمَّ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مقدام بن شریح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، ایک دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تومیری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی، جس پر ابھی تک سواری نہیں کی گئی تھی، بھیجی اور فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ٹیلوں کی طرف نکل جانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ایسا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصدخلوت میں جا کر ذکر کرنا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9194
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2478، 4808 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24811»