الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْعَفْوِ عَنِ الْمَظَالِمِ وَفَضْلِهِ باب: ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 9190
عَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلِمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا وَلَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، جو آدمی ظلم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتاہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ سے مال میںکمی نہیںآتی۔ اس کی صورت ہے کہ رزق میںبرکت ہو جاتی ہے اور اس میںکمی کا باعث بننے والے امور دور ہو جاتے ہیں، اس طرح مخفی برکت کے ذریعے ظاہری طور پر ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے، یا صدقہ کی وجہ سے اتنا اجر و ثواب ملتا ہے کہ ہونے والی کمی کو کمی ہی نہیں کہا جا سکتا۔