الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْعَفْوِ عَنِ الْمَظَالِمِ وَفَضْلِهِ باب: ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 9188
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبُّرٍ وَعَدَدٍ فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم، کمزور اور مسکین تھی، تکبر اور تعداد والے لوگوں نے ان سے لڑائی کی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کو اُن پر غالب کیا تو انھوں نے اپنے دشمن کا قصد کیا اور ان کو غلام بنا لیا اور ان پر مسلط ہو گئے اور اس طرح روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو ملنے تک انہوں نے اپنے اوپر اس کو ناراض کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … جب کمزور لوگوں کو اقتدار مل جائے، تو وہ انتقامی کاروائی شروع نہ کر دیں، بلکہ شریعت کی روشنی میں اپنا اقتدار برقرار رکھیں۔