الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْعَفْوِ عَنِ الْمَظَالِمِ وَفَضْلِهِ باب: ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 9183
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ لَحَالِفًا عَلَيْهِنَّ لَا يَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا وَلَا يَعْفُو عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا (وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! تین چیزیں ہیں، میں یقینا ان پر قسم اٹھاتا ہوں، (۱) صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی، پس صدقہ کیا کرو، (۲) جب بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے کسی ظلم کو معاف کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی عزت میں اضافہ کر دے گا اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ کرنا اور کسی کا ظلم معاف کر دینا، ان کی وجہ سے جن برکتوں کا حصول ہوتاہے، ان اعمال پر پابندی کرنے والا ہی ان کو محسوس کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آزمائشوں سے محفوظ رکھتے ہیں، تسکین و سکینت عطا کرتے ہیں اور دل کو سدا بہار رکھتے ہیں۔
اشد ضرورت کے علاوہ لوگوں سے سوال کرنا ناجائز ہے، چاہیےیہ کہ بندہ محنت کرے، کم آمدنی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے گزارا کرے اور صرف اللہ تعالیٰ سے وسعت ِ رزق کا سوال کرے۔
اشد ضرورت کے علاوہ لوگوں سے سوال کرنا ناجائز ہے، چاہیےیہ کہ بندہ محنت کرے، کم آمدنی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے گزارا کرے اور صرف اللہ تعالیٰ سے وسعت ِ رزق کا سوال کرے۔