الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ مَا وَصَفَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِاذْهَابِ الْغَضَبِ باب: غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى إِنَّهُ لَيُتَخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ أَنَفَهُ لَيَتَمَزَّعُ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ يَقُولُهَا هَذَا الْغَضْبَانُ لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ان میں سے ایک اس قدر طیش میں آیا کہ یہ خیال ہونے لگا کہ غصے کی وجہ سے اس ناک پھٹ جائے گی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ غصے والا آدمی اس کو کہے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، وہ کلمہ یہ ہے: اَللّٰھُمْ اِنَّی اَعَوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔