الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ مَا وَصَفَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِاذْهَابِ الْغَضَبِ باب: غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 9180
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا وَائِلٌ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ قَالَ فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی غصے میں آ جائے تو وہ وضو کیا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔