حدیث نمبر: 9180
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا وَائِلٌ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ قَالَ فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی غصے میں آ جائے تو وہ وضو کیا کرے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9180
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابووائل الصنعاني المرادي ضعيف، وابو عروة مجھول، أخرجه ابوداود: 4784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18148»