حدیث نمبر: 918
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … میت کو غسل دینے والے کیلئے غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ درج ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہارا میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴، محقق بیہقی کے نزدیک یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا نَغْسِلُ الْمَیِّتَ، فَمِنَّا مَنْ یَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَّا یَغْتَسِلُ۔ … ہم میت کو غسل دیتے تھے، اس سے کوئی غسل کر لیتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ (دارقطنی: ۲/ ۷۲، تمام المنۃ: ص ۱۲۱)
سیدہ اسماء بنت عمیس ؓنے اپنے خاوند سیدنا ابو بکر صدیق ؓکو غسل دیا اور پھر مہاجرین سے پوچھا کہ آج شدید سردی ہے، کیا اس پر غسل کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا: جی نہیں۔ (مؤطا امام مالک: ۱ /۲۲۳، بیہقی: ۳/ ۳۹۷) اسی طرح میت کو اٹھانے والے کے لیے وضو کرنا بھی مستحب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ابن اسحاق صرح بحفظه للحديث عن كثير من علماء المدينة، وجھالتھم لا تضر لامتناع تواطؤھم علي الكذب في العادة، وبقية رجاله ثقات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18327»