حدیث نمبر: 9175
عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَغْضَبْ)) فَأَعَادَ عَلَيْهِ حَتَّى أَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ ((لَا تَغْضَبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نفع بخش بات بتلاؤ، لیکن وہ مختصر ہونی چاہیے، تاکہ میں اس کو یاد کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی دفعہ یہ بات دوہرائی اور ہر بار یہی فرماتے رہے کہ تو غصہ نہ کر۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائل اور مخاطب کی صلاحیت کودیکھ کر اس کا مطالبہ پورا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 532، وابويعلي: 6838، والطبراني: 2102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20626»