حدیث نمبر: 9169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی گھونٹ ایسا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں غصے کے اس گھونٹ سے زیادہ پسندیدہ ہو، جس کو بندہ پی جاتا ہے، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے گھونٹ کو پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {الَّذِیْنَیُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاء ِ وَالضَّرَّاء ِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۳۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3017»