حدیث نمبر: 9166
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ((اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)) قَالَ وَكِيعٌ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ فَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بدی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ معاذ راوی نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں عَنْ اَبِی ذَرٍّ کے الفاظ پائے اور یہی پہلا سماع تھا۔

وضاحت:
فوائد: … برائی کے بعد نیکی کرنے سے برائی کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور اس سوچ اور فکر سے آہستہ آہستہ اور بالآخر مزاج میں اتنی ترقی پیدا ہو جاتی ہے کہ بندہ برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21681»