حدیث نمبر: 9162
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِيكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور روزِ قیامت میرے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہوں اور تم میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ نفرت والے اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے، فضول بولنے والے، تکبر کرنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 515، وابن حبان: 482، والطبراني في الكبير : 22/ 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17884»