الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ باب: اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9157
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ الْقَوْمُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَحْسَنُكُمْ خُلُقًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلا دوں جو روزِ قیامت مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین دفعہ اسی بات کو دوہرایا، پھر لوگوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔