الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ باب: اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9152
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں پسندیدہ لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اخلاق اچھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کا واحد ذریعہ ہے، اربوں انسان آئے اور اپناکردار ادا کر کے اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے، ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آنے والوں کے ساتھ بھییہی کچھ ہو گا۔ ماضی ہو یا حال و مستقبل، سعادت مند وہ ہے جو دنیا میں رہ کر جنت کے زیادہ سے زیادہ اسباب جمع کرے۔سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ طَالَ عُمُرُہٗوَحَسُنَعَمَلُہُ۔)) (صحیحہ: ۱۸۳۶) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال نیک ہوں۔
جو انسان اس صفت سے محروم رہے گا،وہ دنیاو آخرت کی خیر و بھلائی سے محروم رہے گا، ایسا انسان دن بدن اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوتا جا ئے گا، ایسا بیچارہ نہ تو زندہ ہے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ مردہ ہے کہ نیک اعمال ترک کرنے اور برے اعمال کا ارتکاب کرنے پر اسے ملامت نہ کیا جائے۔
جو انسان اس صفت سے محروم رہے گا،وہ دنیاو آخرت کی خیر و بھلائی سے محروم رہے گا، ایسا انسان دن بدن اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوتا جا ئے گا، ایسا بیچارہ نہ تو زندہ ہے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ مردہ ہے کہ نیک اعمال ترک کرنے اور برے اعمال کا ارتکاب کرنے پر اسے ملامت نہ کیا جائے۔