الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي اِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَارْشَادِ الضَّالِ باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9146
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ وَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ فَقَالَ أَمِطِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد العزی بن خطل کو قتل کیا، جبکہ وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں، جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کر، یہ تیرے لیے صدقہ ہو گا۔