حدیث نمبر: 9139
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کی فقہ یہ ہے کہ محتاج کی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے سفارش کرنی چاہیے، اگر سفارش قبول ہو گئی تو بہت خوب، بصورت ِ دیگر سفارش کرنے کا ثواب تو ملے گا۔
دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے یا نہ کرنے میں سے جو کچھ چاہا، وحییا الہام کے ذریعے اپنے نبی کی زبان پر ظاہر کر دے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃًیَّکُنْ لَّہ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃًیَّکُنْ لَّہ کِفْلٌ مِّنْھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقِیْتًا۔} … جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (سورۂ نسائ: ۸۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1432 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19813»