الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغيب فِي الدَّعْوَةِ إِلَى الْهُدَى وَأَعْمَالِ الْخَيْرِ وَالدَّلَالَةِ عَلَيْهَا وَالشَّفَاعَةِ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ البين باب: ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری سواری تھک گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے، البتہ تو فلاں کے پاس جا، (وہ تجھے سواری دے دے گا)۔ پس وہ اس آدمی کے پاس گیا اور اس نے واقعی اس کو سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔