حدیث نمبر: 9129
عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ عُقْبَةَ أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ بِمِصْرَ وَفِي رِوَايَةٍ رَكِبَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى مِصْرَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً فَسَتَرَهَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ لِهَذَا جِئْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مکحول کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا مسلمہ بن مخلد کے پاس مصر میں گئے، ایک روایت میں ہے: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ مصر کے امیر تھے، ان کے اور پہرے دار کے مابین کوئی تکرار ہو گیا، سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خود آواز سن لی اور ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی، انھوں نے کہا: میں اس بار تمہاری زیارت کے لیے آیا ہوں نہ اپنی کسی ضرورت کے لیے، بات یہ ہے کہ کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس کو اپنے بھائی کی کسی برائی کا پتہ چلا، لیکن اس نے اس پر پردہ رکھا تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے یاد ہے، انھوں نے کہا: جی میں اس مقصد کے لیے آیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9129
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 1067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17085»